سوشل میڈیا پر دجال کی بیوی دجال کی سب نشانیاں اس عورت میں موجود ہیں۔ دجال کی بیوی کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہونے لگے، دنیا بھر میں ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو شہرت حاصل کرنے کے لیے اپنی انسانی سطح سے گزرنے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیتے۔ سستی شہرت کے حصول کے لیے بہت سارے لوگ شیطانی مذہب کو اختیار کر چکے ہیں اور شیطان کی پوجا بھی کرتے ہیں۔
ان بہت سارے لوگوں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو فخریہ طور پر خود کو جانوروں جیسی شکل میں رکھتے ہیں اور جانوروں کی مشابہت اختیار کرنے کے لیے کی سرجری کروا چکے ہیں۔ ایسے لوگوں کی کثرت دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشن گوئی کو پورا کر رہی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق آخری زمانے میں حیا شرم بالکل ختم ہو جائے اور بے حیائی کا چلن عام ہو جائے گا۔ اس حدیث کے پورا ہونے کی نشانیاں ہم کئی سال سے اپنے آس پاس دیکھتے ہیں ۔ اسی طرح ایسے لوگوں میں سے ایک ایسی عورت بھی چھپی ہے جس نے اپنی تمام حدود کو پار کر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے لیے ایک وڈیو بنائی ۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے ایک عورت خو کو د جال کی بیوی ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک عورت خود جال کی بیوی ہونے کا دعوی کر رہی ہے اور اس نے اپنی پیشانی پر دونوں آنکھوں کے درمیان سٹار آف ڈیوڈ جو کہ اسرائیل یہودیوں کے مذہبی نشان ہے اسے بھی نیلے رنگ ٹیون کروا رکھا ہے ۔ اگر آپ اس ویڈیو کو روک کر اسے الٹا کر کے دیکھیں تو آپ کو ڈیوڈ کے نیچے لکھا ہوا لفظ کافر بھی نظر آئے گا ۔ یعنی یہ عورت پوری طرح خود کو دجال کی بیوی ثابت کرنے کے لیے پر عزم ہے ۔
اس کی حرکت کے پیچھے کیا مقصد ہے یہ تو بعد کی بات ہے البتہ ایک بات جو نہایت ہی سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے دجال سے مشابہت اختیار کرنے کے لیے اپنی ایک آنکھ میں بھی کچھ ایسی سرجری کروائی ہے جس کی وجہ سے یہ ایک آنکھ محروم معلوم ہوتی ہے۔ جیسا کہ دجال کے بارے میں مختلف احادیث میں مذکور ہے ، کہ اس کے ماتھے پر دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا اور اس کی ایک آنکھ سے کام نہیں کرتی ہوگی یعنی وہ کانا ہوگا۔ یہی تمام نشانیاں یہ عورت اپنے چہرے پرکندہ کروا چکی ہیں۔
یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ یہ عورت دراصل ایک عورت نہیں بلکہ ایک مرد ہے جس نے خود کو یورپی قوانین کے مطابق عورت کلیئر کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ موجودہ یورپی قوانین کے مطابق جنس کا تعین اپنی سوچ کے حوالے سے کیا جاتا ہے یعنی اگر کوئی مرد اپنے آپ کو ذہنی طور پر تسلیم کرتا تو اسے عورت لکھا جائے گا اور اس کو عورتوں والی تمام حقوق ملیں گے۔ یہ بھی دنیا میں جاری بے حیائی اور فحاشی کی ایک شکل جہاں پر خود کومرد کلیئر کرواکر سرجری کے ذریعے خود کو مرد بناتے رہے ہیں، وہیں پر ایسے مردوں کی کمی بھی نہیں ہے جو اپنے آپ کو سرجی کے ذریعے عورتوں میں کنورٹ کریں اور اپنے زنانہ اعظم مر جاؤ بھاڑ کر پوری دنیا میں بے غیرتی اور فحاشی کو فروغ دینے میں سرگرم ہے۔
دجال کی بیوی ہونے کا دعوے دار ہے مگر جو خود کو ذہنی طور پر اور تسلیم کرتا ہے اور شناختی کارڈ ذات کی بنیاد پر اپنے آپ کوکچھ اور، اس کا دعویٰ ہے کہ یہ دجال کی بیوی ہے اور دجال کے ظاہر ہونے کا انتظار کر رہی ہے ۔ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے لوگ کس حد تک جا سکتے ہیں اس کی بہت سی مثالیں بھری پڑی ہیں۔
ابھی تک اس بارے میں کوئی علم نہیں ہو سکا کہ دجال کی بیوی ہونے کا دعوے دار مرد یا عورت نما مرد کس ملک سے تعلق رکھتا ہے۔ اور اس کے بارے میں دیگر تفصیلات کیا اور نہ ہی اس کے ماضی کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہوسکیں یوں لگتا ہے جیسے یہ شخص اچانک کسی گمنامی سے نکل کر دنیا کے سامنے آیا ۔ آپ کو دنیا کے ابتدائی دور کے بارے میں بتا تے ہیں۔ اس دور کے شیاطین جو اصل میں جنات ہیں اور نسل انسانی کو آلودہ کرنے کے لیے ایسی غلیظ حرکات کرنا شروع کی تھیں ، جن میں مردوں کا مردوں سے لٹوہونا اور عورتوں کا عورتوں پر عاشق ہو جانا اور اسی طرح سے عورتوں اور جانوروں کے ملاپ سے مخلوط نسل پیدا کرنے جیسی غلیظ حرکتیں بھی شامل تھیں ۔ یہ تمام کے تمام شیطانی ہیں اور پوری دنیا میں یہ لعنت بڑی تیزی سے عام ہے۔ جس فطرت پر انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے ۔ جب انسان اس وقت سے آگے اور شیطانی کاموں میں سرگرم ہوجائیں گے تو پھر ایسے انسانوں سے کوئی بھی توقع کی جاسکتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے مطابق آخری زمانے میں ایسے لوگوں کی کثرت ہوگی جو شرم و حیا کو ایک ہی چیز سمجھتے ہوں گے۔ ایسے تمام لوگوں اور عورتوں کے لئے جو معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی کے فروغ کے لیے کام کرتے ہوں گے۔ ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کی نوید سنائی ہے۔ شیطان کے پجاریوں میں سے کسی بھی شخص کو یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے آپ کے کچھ بھی ہونے کا دعوی کرے یا کچھ بھی بننے کی کوشش کرے۔
اس وقت دنیا بھر میں ایسے کئی مذاہب وجود میں آچکے ہیں جو کہ شیطان کے پجاری ہیں اور دنیا کا ہر غلیظ ترین اور بدترین کام نیکی اور ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔ شیطان کے پیروکاروں کو مختلف مواقع پر بڑے جرائم میں ملوث ہونے پرگرفتار بھی کیا گیا ہے۔ شیطان کے پیروکار معصوم بچوں کو قتل کرنے کو بھی ثواب کا کام سمجھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زنا یہاں تک کہ زنا بالجبر سمجھتے ہیں ۔ انسانی معاشرے میں ایسے انسان نما درندوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہودیوں کی اکثریت اسی جھوٹے مسیح کے جال میں پھنسی ہوئی ہے ۔ اسی کی پیروی کے دوران تمام یہودی حضرت عیسی علیہ السلام کی قیادت میں جہنم واصل کئے جائیں گے۔ دنیا کے آخری اور سچے مسیحا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے ۔ لیکن یہودیوں کے نزدیک ابھی تک نبوت کا یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔
ان میں سے کوئی ایسا شخص ہو سکتا ہے جو خود مردہ لیکن اپنے آپ کو عورت ہونے کا دعوی کرے اور پھر اپنے آپ کو دجال کی بیوی ہونے کا دعوی کرے یہ تمام کی تمام حرکات شیطانی مذہب میں قابل قبول ہوسکتی ہیں۔ جس سے دجال کی بیوی ہونے کا دعویٰ ہے فخریہ طور پر مرد ہونے کے باوجود اپنے آپ کو عورت کی ظاہر کر کے گمراہی اور جہنم کے راستے جائے۔
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔




2 تبصرے
its correct hungry of fame
جواب دیںحذف کریںhow double face world a
جواب دیںحذف کریں