بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے خلاف صیہونی سازشوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ بلکہ ان کی جانب سے یہ مظالم کا سلسلہ ایک لمبے عرصے سے جاری ہے۔
حالیہ واقعات اور مسجد اقصیٰ پر قبضے کی کوشش بھی اسی سلسلے کی
ایک خوفناک کڑی ہے۔ صہیونی آجکل پریشانیوں
میں مبتلا ہیں کہ کس طرح جلد از جلد مسجد اقصیٰ پر قبضہ کرلیا جائے۔ اور اس کی جگہ تھرڈ گولڈن ٹیمپل تعمیر کیا جا
سکے۔ وہ اس سلسلے کی کاروائیوں کو تیزی کے
ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ یہودیوں
کی کتاب تلمود کے مطابق اس کائنات کے اب
زیادہ دن باقی نہیں رہے ۔ اور وہ یہ دن ختم ہونے سے پہلے اپنے ہر ناپاک مقصد میں
کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔ جس کی جانب وہ بڑی
تیزی سے گامزن ہیں۔
یہودیوں کا نیا سال ستمبر سے شروع ہوتا ہے۔ جبکہ تلمود کے مطابق دنیا کی کل عمر 6 ہزار سال
ہے اور آج کی تاریخ کے مطابق ان 6 ہزار سال اور یہودی کیلنڈر کے مطابق 5781 سال کا وقت گزر چکا ہے۔ ان کے اسی کیلنڈر کے مطابق اس دنیا کو فنا ہونے
میں صرف دو سو انیس سال باقی رہ چکے ہیں۔ اس سے قبل دنیا بھر میں یہودیوں کے غلبہ حاصل
کرنے کے لئے یہودی مسیح کی آمد ضروری ہے۔ مسلمان جسے دجال کہتے ہیں اوہ یہودیوں اس کو اپنا مسیحا کہتے ہیں۔ جس کی آمد کا یہودی انتہائی شدت سے منتظر ہیں۔
صہیونی عقائد کے مطابق
ان کا مسیحا یعنی دجال اس وقت تک نہیں آئے گا جب تک یہودی اور شیطانی طاقتیں دو کاموں سے فارغ
نہ ہو جائیں۔ جن میں سے ایک تابوت سکینہ
کی تلاش کے دوسرا ہیکل سلیمانی کی تعمیر ہے ۔ بنی اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام
کی اولاد ہیں جب ان کے علاقے میں قحط سالی عام ہوگئی تو بنی اسرائیل مصر منتقل ہو
گئے۔ پھر یہ بنی اسرائیل کو غلامی کی
زنجیروں میں جکڑ دیا گیا۔ یہاں سینکڑوں برس کی ذلت و خواری سے گزر کر تین
ہزار سال پہلے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ فلسطین واپس آ گئے۔
ہیکل سلیمانی- Golden Temple
بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر حضرت داؤد علیہ السلام نے ایک ہزار سال قبل مسیح القدس اور موجودہ یوروشلم کو فتح کیا تھا ۔ اور اسے اپنی مملکت کا دارالسلطنت بنایا جسے یہودی آج کنگڈم آف ڈیوڈ بھی کہتے ہیں۔
اس سلطنت میں حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیادوں پر عظیم معبد بنانا شروع کیا اور ان کے بعد ان کے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام نے بھی اس معبد کے تعمیری سلسلے کو جاری رکھا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس حضرت موسی علیہ السلام کا ایک تابوت تھا۔ جس میں پتھر کی وہ تختیاں بھی تھیں جو کہ اللہ تعالی نے ان پر کوہ طور پر نازل فرمائی تھی۔ اس کے علاوہ اس تابوت میں حضرت ہارون علیہ السلام کا عصا اور وہ برتن بھی تھا جس سے من و سلویٰ نکلتا تھا۔
یہودیوں کا کہنا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس تابوت کو جس میں یہ ساری اشیاء ہیں وہ معبد کی بنیادوں میں چھپا رکھا ہے ۔ اسی طرح جادو کے کچھ نسخوں کو بھی صندوق میں بند کر کے معبد کے نیچے غاروں میں چھپا دیا گیا تھا۔ یہودی حضرت سلیمان علیہ السلام کے اسی معبد کو ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔اس ہیکل سلیمانی بابل کے ایک بادشاہ بخت نصر نے تباہ کر دیا تھا ۔
لیکن اس کی بیرونی دیوار کو اس نے چھوڑ دیا تھا۔ یہی وہ دیوار گریہ ہے جو کہ یہودیوں کے ہاں انتہائی تقدس کی حامل ہے۔
تابوت سکینہ
یہودیوں کا ماننا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے تابوت سکینہ اور جادو کے نسخے بیت المقدس کے نیچے غاروں میں چھپا رکھے ہیں۔ چنانچہ یہودی طویل عرصے سے ان غاروں کی تلاش میں بیت المقدس کے نیچے کھدائی کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد تابوت سکینہ کو بھی ڈھونڈ نکالنا ہے۔
اسی مقصد میں مسجد اقصیٰ کےپورے علاقے کو منہدم کرکے اس کی
جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں
۔ آج سے آٹھ سو سال قبل سلطان صلاح الدین ایوبی نے مسجد اقصیٰ کی توسیع کی تھی ۔
ان کے مطابق گولڈن ٹیمپل (ہیکل سلیمانی ) بیت المقدس اور اقصیٰ جدید جتنا ہی وسیع ہوگا ۔یہ سب ان کے مسیحا کے خروج کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ یہودی عقائد کے مطابق جب تک مسجد اقصیٰ کو
منہدم کرکے وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں ہو گا تب تک دجال نہیں آ سکتا۔ اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ آگے کے تمام مراحل جلد از جلد طے کر لیے جائیں۔ یوروشلم کو اسرائیلی راجدھانی قرار دینا دراصل
اسی صہیونی منصوبے کی سمت پیش رفت ہے۔
مسجد اقصیٰ اور یہودی سازش
مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنے کے لئے یہودی عرصہ دراز سے مختلف منصوبوں پر کام کرتے آ رہے ہیں۔ ان کا ایک منصوبہ مسجد اقصیٰ کو نذرِآتش کرنا ہے۔ جس پر اب تیزی سے عمل جاری ہے اور وہ مسجد اقصیٰ کو نذرِآتش کرنے کے لئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔
اس سے پہلے بھی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کئی مرتبہ عملی اقدامات کیے گئے۔ 21 اگست 1999ء کو بھی ڈینس مائیکل نے مسجد اقصیٰ میں آتشزدگی کا اقدام کیا تھا۔ جس کے نتیجے میں مسجد کے فرش دیوار اور سلطان نور الدین زنگی کا بنایا ہوا ممبر آگ کی زد میں آ گیا تھا۔ جبکہ مسجد اقصیٰ آتشزنی کے لیے کئی مرتبہ دھماکوں کی بھی کوشش کی گئی۔ اسی سلسلے کا دوسرا منصوبہ مسجد اقصیٰ کے نیچے مسلسل کھدائی والی سرنگیں بنانے کا ہے۔
یہ سلسلہ بھی 1998 ء سے مسلسل جاری ہے۔ اس منصوبے کی خاطر قدیم القدس شہر کے باشندوں کی
بڑی تعداد کو جلا وطن کر دیا گیا ہے۔ کھدائی
کے ذریعے مسجد اقصیٰ کے نیچے مٹی اور پتھروں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ مسجد کی دیواروں میں جگہ جگہ دراڑیں
پڑ چکی ہیں۔ جبکہ جنوبی دیوار میں صحابہ
اور تابعین کی سو سے زائد قبروں کو بھی مسمار کیا جا چکا ہے۔
یہودیوں کا بنیادی منصوبہ ہیکل سلیمانی(گولڈن ٹیمپل) کی تعمیر ہے ۔ اسی وجہ سے یہودی کئی دفعہ مسجد اقصیٰ میں مذہنی رسومات کی ادائیگی کے لیے مزاحمتی کوششیں کرتے آرہے ہیں۔ 20 جنوری 1999ء کو ایک اسرائیلی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ سنایا گیا کہ یہودی مذہبی مراسم کی ادائیگی کے لیے جب چاہیں مسجد اقصیٰ میں داخل ہو سکتے ہیں۔
ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے
لئے یہودی انتہا پسند تنظیمیں ہمیشہ یہودیوں کے مذہبی جذبات بھڑکاتی ہیں ۔ ان کی جانب سے
ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے خواب کو جلد از جلد شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے مسجد اقصیٰ
کے مرکزی گیٹ کے قریب تیسرے ہیکل سلیمانی کی سنگ بنیاد کے طور پر ایک پتھر بھی گاڑ دیا
گیا ہے۔ اس وقت 20 ایسی یہودی تنظیمیں ہیں جو کہ مسجد اقصیٰ کو
شہید کرنے کے لیے کوشاں ہیں ۔
تابوت سکینہ کی تلاش
قوم یہود اور ان صہیونی طاقتوں کو تابوت سکینہ کی کیوں تلاش ہے۔ تابوت سکینہ اسرار صندوق شمشاد کی لکڑی کا بنا ہوا ہے۔ اس صندوق میں حضرت موسی علیہ السلام کا عصا اور ان کی جوتیاں ، حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ شریف، حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی تورات کی تختیوں کے چند ٹکڑے اور کچھ من و سلویٰ تھا ۔ بنی اسرائیل میں یہ صندوق بڑا ہی مقدس اور بابرکت سمجھا جاتا تھا۔
بنی
اسرائیل ہر جنگ میں اس صدوق کو اپنے ساتھ رکھتے اور اس کی برکت کی وجہ سے
جنگوں میں فتح یاب ہوجاتے تھے۔ بنی
اسرائیل میں جب کوئی اختلاف پیدا ہوتا تو یہ لوگ اسی صندوق سے فیصلہ کرتے تھے۔
تابوت سکینہ کی اہمیت
یہ صندوق جو کہ تاریخ میں تابوت سکینہ کے نام سے مشہور ہے بنی اسرائیل میں بہت مقدس اور فتح کے نزول کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا ۔ مگر جب بنی اسرائیل حدود سے تجاوز کرتے ہوئے اپنی سرکشی اور گناہوں میں حد سے زیادہ بڑھ گئے۔ تو ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور قوم اعمال کا حملہ کر کے انہیں تباہ و برباد کرنے کے ساتھ ساتھ یہ صندوق بھی آپ کے ساتھ اٹھا کر لے گئے اور اسے گندگی میں پھینک دیا ۔ جس سے ان پر طرح طرح کی وبائیں اور مصیبتیں آنے لگیں۔ تب ان کو یقین ہوگیا کہ یہ اس صندوق کی بے ادبی کا نتیجہ ہے۔ چناچہ انہوں نے اس صندوق کو ایک بیل گاڑی میں رکھ کر ان بیلوں کو بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف روانہ کر دیا ۔
حضرت شمویل علیہ السلام کا زمانہ تھا تب بنی اسرائیل کا کوئی بادشاہ نہیں تھا ۔ انہوں نے آپ سے درخواست کی کہ ہمارے میں سے کسی کو بادشاہ بنا دیں۔ آپ نے اللہ تعالی کے حکم سے حضرت طالوت علیہ السلام کو بادشاہ بنا دیا ۔ حضرت طالوت علیہ السلام بنی اسرائیل میں سب سے زیادہ طاقتور اور سب سے بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ بہت غریب اور مفلس چرواہے تھے۔ اس پر بنی اسرائیل کو اعتراض ہوا کہ طالوت کا تعلق شاہی خاندان سے نہیں ہے۔ اس سے زیادہ حق ہمارے لوگوں کا ہے ایک غریب اور مفلس انسان بھلا تخت شاہی کے لائق کیسے ہو سکتا ہے ۔ بنی اسرائیل کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے اللہ تعالی کے حکم سے کیا ہے۔ جس کا ذکر قرآن شریف کی سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 247 اور دو 248 میں آتا ہے۔ چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں فرشتوں نے یہ تابوت حضرت طالوت علیہ السلام کے سامنے لا کر رکھ دیا۔
اس تابوت کو دیکھ کر تمام بنی اسرائیل حضرت طالوت علیہ السلام کی بادشاہی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ اس کے چالیس سال بعد حضرت طالوت علیہ السلام کا انتقال ہو گیا۔ پھر بعد میں حضرت موسی علیہ السلام کی بھی وفات ہوگئی۔ تو اللہ تعالی نے حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہت عطا کردیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی خواہش تھی کہ تابوت سکینہ کو محفوظ رکھنے کے لئے کوئی مستقل جگہ بنائی جائے۔ جس سے حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے دور میں اپنے محل میں جنوں سے تعمیر کروایا جو کہ ہیکل سلیمانی کے نام سے مشہور ہوئی۔
598 قبل
از مسیح میں جب ایک ظالم بادشاہ بخت نصر نے بنی اسرائیل پر حملہ کیا تو دوسری
عمارتوں کے ساتھ ساتھ ہیں ہیکل سلیمانی کو بھی تباہ و برباد کر دیا ۔ اسی افراتفری
میں تابوت سکینہ غائب ہو گیا اور آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ۔ اب یہودی
آثار قدیمہ کی باقیات ڈھونڈنے کے بہانے دنیا بھر میں آج بھی اس تابوت کی تلاش میں
سرگرداں ہیں ۔ انہوں نے فلسطین کا بہت سا علاقہ چھان مارا ہے اور آہستہ آہستہ
انھوں نے مسجد اقصیٰ کو بھی قائم کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ اس تابوت سکینہ کو کہیں
نہ کہیں سے تلاش کیا جاسکے۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی بیت المقدس کی حفاظت
فرمائے اور یہودیوں کو ان تمام منصوبوں کو ناکام فرمائے آمین ثم آمین ثم آمین ۔
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔









3 تبصرے
controversy about Ghaza and israel is main issue in world
جواب دیںحذف کریںhow solve this issue for peaceful world... God will be distroy israel
جواب دیںحذف کریںAllah Ta'ala protects Bayt al-Maqdis
جواب دیںحذف کریں